Category Archives: غزل

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے
شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے

آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام
صرف شراب چاہیے ، صرف شراب چاہیے

کچھ بھی نہیں ہے ذہن میں کچھ بھی نہیں سو اب مجھے
کوئی سوال چاہیے کوئی جواب چاہیے

اس سے نبھے گا رشتۂ سود و زیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بَلا کا بدحساب اس کو حساب چاہیے

امن و امانِ شہرِ دل خواب و خیال ہے ابھی
یعنی کہ شہرِ دل کا حال اور خراب چاہیے

جانِ گماں ہمیں تو تم صرف گمان میں رکھو
تشنہ لبی کو ہر نفس کوئی سراب چاہیے

کھُل تو گیا ہے دل میں ایک مکتبِ حسرت و اُمید
جونؔ اب اس کے واسطے کوئی نصاب چاہیے

Posted By 
http://yawarmaajed.wordpress.com

دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو

دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو

جو بھی ہے اس کو گنوا بیٹھا ہے
میں بھلا کیسے گنوا دوں اس کو

تجھ گماں پر جو عمارت کی تھی
سوچتا ہوں کہ میں ڈھا دوں اس ک

جسم میں آگ لگا دوں اس کے
اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو

ہجر کی نظر تو دینی ہے اسے
سوچتا ہوں کہ بھُلا دوں اس کو

جو نہیں ہے مرے دل کی دنیا
کیوں نہ میں جونؔ مِٹا دوں اس کو

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے

بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بھُولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حُزن دل میں نکہتِ موجِ صبا سے ہے

دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے

جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے

دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے

اس میں کوئی گِلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے

آئے وہ کِس ہنر سے لبوں پر کہ مجھ میں *جون*
اک خامشی ہے جو مرے شورِ نوا سے ہے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


آدمی وقت پر گیا ہوگا

آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا

خود سے مایوس ہو کر بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا

شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا

مرہمِ ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے

وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
کیسے دنیا جہان چھوڑ گئے

اے زمینِ وصال لوگ ترے
ہجر کا آسمان چھوڑ گئے

تیرے کوچے کے رُخصتی جاناں
ساری دنیا کا دھیان چھوڑ گئے

روزِ میداں وہ تیرے تیر انداز
تیر لے کر کمان چھوڑ گئے

جونؔ لالچ میں آن بان کی یار
اپنی سب آن بان چھوڑ گئے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے

جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے
ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے

رنگِ سرشاری کی تھی جِن سے رَسَد
دل کی ان فصلوں کے جنگل کٹ گئے

اک چراغاں ہے حرم میں دیر میں
جشن اس کا ہے دل و جاں بٹ گئے

شہرِ دل اور شہرِ دنیا الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے

ہو گیا سکتہ خرد مندوں کو جب
مات کھاتے ہی دوانے ڈٹ گئے

چاند سورج کے عالم اور واپسی
وہ ہوا ماتم کہ سینے پھٹ گئے

کیا بتائیں کتنے شرمندہ ہیں ہم
تجھ سے مِل کر اور بھی ہم گھٹ گئے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


میں دل کی شراب پی رہا ہوں

میں دل کی شراب پی رہا ہوں
پہلو کا عذاب پی رہا ہوں

میں اپنے خرابۂ عبث میں
بے طرح خراب پی رہا ہوں

ہے میرا حساب بے حسابی
دریا میں سراب پی رہا ہوں

ہیں سوختہ میرے چشم و مژگاں
میں شعلۂ خواب پی رہا ہوں

دانتوں میں ہے میرے شہ رگ جاں
میں خونِ شباب پی رہا ہوں

میں اپنے جگر کا خون کر کے
اے یار شتاب پی رہا ہوں

میں شعلۂ لب سے کر کے سیّال
طاؤس و رباب پی رہا ہوں

وہ لب ہیں بَلا کے زہر آگیں
میں جن کا لعاب پی رہا ہوں

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے

وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے
بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے

کہاں گئے کبھی ان کی خبر تو لے ظالم
وہ بے خبر جو تیری زندگی میں آئے تھے

گلی میں اپنی گِلہ کر ہمارے آنے کا
کہ ہم خوشی میں نہیں سرخوشی میں آئے تھے

کہاں چلے گئے اے فصلِ رنگ و بُو وہ لوگ
جو زرد زرد تھے اور سبزگی میں آئے تھے

نہیں ہے جن کے سبب اپنی جانبری ممکن
وہ زخم ہم کو گزشتہ صدی میں آئے تھے

تمہیں ہماری کمی کا خیال کیوں آتا
ہزار حیف ہم اپنی کمی میں آئے تھے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا

کوئی بھی کیوں مجھ سے شرمندہ ہوا
میں ہوں اپنے طور کا ہارا ہوا

دل میں ہے میرے کئی چہروں کی یاد
جانیے میں کِس سے ہوں رُوٹھا ہوا

شہر میں آیا ہوں اپنے آج شام
اک سرائے میں ہوں میں ٹھیرا ہوا

بے تعلق ہوں اب اپنے دل سے بھی
میں عجب عالم میں بے دنیا ہوا

ہے عجب اک تیرگی در تیرگی
کہکشانوں میں ہوں میں لپٹا ہوا

اب ہے میرا کربِ ذات آساں بہت
اب تو میں اس کو بھی ہوں بھُولا ہوا

مال بازارِ زمیں کا تھا میں *جون*
آسمانوں میں میرا سودا ہوا

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


کر لیا خود کو جو تنہا میں نے

کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے

وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے

دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے

دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے

شوقِ منزل تھا بُلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے

اک پلک تجھ سے گزر کر ، تا  عمر
خود ترا وقت گزارا میں نے

اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو!
کیوں کیا تم کو اِکھٹا میں نے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے

خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

انہیں شہروں کو شتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے

بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے

پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!
اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے

یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے

ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوال
روز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے

یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جونؔ جو ڈھائے بھی گئے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں

دل جو اک جائے تھی دنیا ہوئی آباد اس میں
پہلے سنتے ہیں کہ رہتی تھی کوئی یاد اس میں

وہ جو تھا اپنا گمان آج بہت یاد آیا
تھی عجب راحتِ آزادیِ ایجاد اس میں

ایک ہی تو وہ مہم تھی جسے سر کرنا تھا
مجھے حاصل نہ کسی کی ہوئی امداد اس میں

ایک خوشبو میں رہی مجھ کو تلاشِ خدوخال
رنگ فصیلیں مری یارو ہوئیں برباد اس میں

باغِ جاں سے تُو کبھی رات گئے گزرا ہے
کہتے ہیں رات میں کھیلیں ہیں پری زاد اِس میں

دل محلے میں عجب ایک قفس تھا یارو
صید کو چھوڑ کے رہنے لگا صیاد اس میں

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے

گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی
جام ہوں گے چھلک گئے ہوں گے

وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہو گا
ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے

شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے

کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں
دار پر خود لٹک گئے ہوں گے

شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں
پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے

ہم تو اپنی تلاش میں اکثر
از سما تا سمک گئے ہوں گے

اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی
ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے

جونؔ ، اللہ اور یہ عالم
بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


تم سے جانم عاشقی کی جائے گی

تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
اور ہاں یکبارگی کی جائے گی

کر گئے ہیں کوچ اس کوچے کے لوگ
اب تو بس آوارگی کی جائے گی

تم سراپا حُسن ہو، نیکی ہو تم
یعنی اب تم سے بدی کی جائے گی

یار اس دن کو کبھی آنا نہیں
پھول جس دن وہ کلی کی جائے گی

اس سے مِل کر بے طرح روؤں گا میں
ایک طرفہ تر خوشی کی جائے گی

ہے رسائی اس تلک دل کا زیاں
اب تو یاراں نارسی کی جائے گی

آج ہم کو اس سے ملنا ہی نہیں
آج کی بات آج ہی کی جائے گی

ہے مجھے احساس کم کرنا ہلاک
یعنی اب تو بے حسی کی جائے گی

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو

کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہو
کہ رُوٹھے ہو کبھی اور منانے لگتے ہو

گِلہ تو یہ ہے تم آتے نہیں کبھی لیکن
جب آتے بھی ہو تو فورًا ہی جانے لگتے ہو

یہ بات جونؔ تمہاری مزاق ہے کہ نہیں
کہ جو پھی ہو اسے تم آزمانے لگتے ہو

تمہاری شاعری کیا ہے بھلا، بھلا کیا ہے
تم اپنے دل کی اُداسی کو گانے لگتے ہو

سرودِ آتشِ زرّینِ صحنِ خاموشی
وہ داغ ہے جسے ہر شب جلانے لگتے ہو

سنا ہے کاہکشاؤں میں روز و شب ہی نہیں
تو پھر تم اپنی زباں کیوں جلانے لگتے ہو

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں

تجھ بدن پر ہم نے جانیں واریاں
تجھ کو تڑپانے کی ہیں تیاریاں

کر رہے ہیں یاد اسے ہم روز و شب
ہیں بھُلانے کی اسے تیاریاں

تھا کبھی میں اک ہنسی اُن کے لیے
رو رہی ہیں اب مجھے مت ماریاں

جھوٹ سچ کے کھیل میں ہلکان ہیں
خوب ہیں یہ لڑکیاں بےچاریاں

شعر تو کیا بات کہہ سکتے نہیں
جو بھی نوکر جونؔ ہیں سرکاریاں

جو میاں جاتے ہیں دفتر وقت پر
اُن سے ہیں اپنی جُدا دشواریاں

ہم بھلا آئین اور قانون کی
کب تلک سہتے رہیں غداریاں

سُن رکھو اے شہر دارو ! خون کی
ہونے ہی والی ہیں ندیاں جاریاں

ہیں سبھی سے جن کی گہری یاریاں
سُن میاں ہوتی ہیں ان کی خواریاں

ہے خوشی عیاروں کا اک ثمر
غم کی بھی اپنی ہیں کچھ عیاریاں

ذرّے ذرّے پر نہ جانے کس لیے
ہر نفس ہیں کہکشائیں طاریاں

اس نے دل دھاگے ہیں ڈالے پاؤں میں
یہ تو زنجیریں ہیں بےحد بھاریاں

تم کو ہے آداب کا برص و جزام
ہیں ہماری اور ہی بیماریاں

خواب ہائے جاودانی پر مرے
چل رہی ہیں روشنی کی آریاں

ہیں یہ سندھی اور مہاجر ہڈ حرام
کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں

یار! سوچو تو عجب سی بات ہے
اُس کے پہلو میں مری قلقاریاں

ختم ہے بس جونؔ پر اُردو غزل
اس نے کی ہیں خون کی گل کاریاں

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں

خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں

اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں

میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں

اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


ہے عجب حال یہ زمانے کا

ہے عجب حال یہ زمانے کا
یاد بھی طور ہے بھُلانے کا

پسند آیا ہمیں بہت پیشہ
خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا

کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی
عیش دفتر میں گنگنانے کا

آسمانِ خموشیِ جاوید
میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا

جان! کیا اب ترا پیالۂ ناف
نشہ مجھ کو نہیں پِلانے کا

شوق ہے ِاس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا

اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں
اب نہیں خود کو آزمانے کا

کیا کہوں جان کو بچانے میں
جونؔ خطرہ ہے جان جانے کا

یہ جہاں *جون*! اک جہنم ہے
یاں خدا بھے نہیں ہے آنے کا

زندگی ایک فن ہے لمحوں کا
اپنے انداز سے گنوانے کا

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


غم ہے بے ماجرا کئی دن سے

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے

بے شمیمِ ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہِ صبا کئی دن سے

دل محلے کی اس گلی میں بَھلا
کیوں نہیں غُل مچا کئی دن سے

وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مِل سکا کئی دن سے

اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بےواسطہ کئی دن سے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا

ہیں موسم رنگ کے کتنے گنوائے، میں نہیں گِنتا
ہوئے کتنے دن اس کوچے سے آئی، میں نہیں گِنتا

بھلا خود میں کب اپنا ہوں، سو پھر اپنا پرایا کیا
ہیں کتنے اپنے اور کتنے پرائے میں نہیں گِنتا

لبوں کے بیچ تھا ہر سانس اک گنتی بچھڑنے کی
مرے وہ لاکھ بوسے لے کے جائے میں نہیں گِنتا

وہ میری ذات کی بستی جو تھی میں اب وہاں کب ہوں
وہاں آباد تھے کِس کِس کے سائے میں نہیں گِنتا

بھلا یہ غم میں بھولوں گا کہ غم بھی بھول جاتے ہیں
مرے لمحوں نے کتنے غم بھُلائے میں نہیں گِنتا

تُو جن یادوں کی خوشبو لے گئی تھی اے صبا مجھ سے
انہیں تُو موج اندر موج لائے میں نہیں گِنتا

وہ سارے رشتہ ہائے جاں کے تازہ تھے جو اس پل تک
تھے سب باشندۂ کہنہ سرائے، میں نہیں گِنتا

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی

ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی

جس دن اُس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بے کیف تھا میں
جس دن اُس کا خط آیا ہے اُس دن بھی ویرانی تھی

جب اُس نے مجھ سے کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں
تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی

جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی رُوداد یہ ہے
اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی

اُلجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں
میرا مزاجِ عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی

اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی

نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا
اس کو دیکھ کے رُک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی

مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے
اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی

عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا
لمحے لافانی ٹھیرے تھے قطروں کی طغیانی تھی

جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفان سمجھا تھا
وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی

تھا دربارِ کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا
تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


کب پتا یار کو ہم اپنے لکھا کرتے ہیں

کب پتا یار کو ہم اپنے لکھا کرتے ہیں
جانے ہم خود میں کہ نا خود میں رہا کرتے ہیں

اب تم شہر کے آداب سمجھ لو جانی
جو مِلا ہی نہیں کرتے وہ مِلا کرتے ہیں

جہلا علم کی تعظیم میں برباد گئے
جہل کا عیش جو ہے وہ علما کرتے ہیں

لمحے لمحے میں جیو جان اگر جینا ہے
یعنی ہم حرصِ بقا کو بھی فنا کرتے ہیں

جانے اس کوچۂ حالت کا ہے کیا حال کہ ہم
اپنے حجرے سے بہ مشکل ہی اُٹھا کرتے ہیں

میں جو کچھ بھی نہیں کرتا ہوں یہ ہے میرا سوال
اور سب لوگ جو کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں

اب یہ ہے حالتِ احوال کہ اک یاد سے ہم
شام ہوتی ہے تو بس رُوٹھ لیا کرتے ہیں

جس کو برباد کیا اس کے فدا کاروں نے
ہم اب اس شہر کی رُوداد سنا کرتے ہیں

شام ہو یا کہ سحر اب خس و خاشاک کو ہم
نذرِ پُر مایگیِ جیبِ صبا کرتے ہیں

جن کو مُفتی سے کدورت ہو نہ ساقی سے گِلہ
وہی خوش وقت مری جان رہا کرتے ہیں

ایک پہنائے عبث ہے جسے عالم کہیے
ہو کوئی اس کا خدا ہم تو دعا کرتے ہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے

عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے
دل کو اب دل دہی سے خطرہ ہے

ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں
ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے

جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ
اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے

یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات
ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے

ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آگہی سے خطرہ ہے

شہر غدار جان لے کہ تجھے
ایک امروہوی سے خطرہ ہے

ہے عجب طورِ حالتِ گریہ
کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے

حال خوش لکھنو کا دلّی کا
بس انہیں مصحفی سے خطرہ ہے

آسمانوں میں ہے خدا تنہا
اور ہر آدمی سے خطرہ ہے

میں کہوں کس طرح یہ بات اس سے
تجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے

آج بھی اے کنارِ بان مجھے
تیری اک سانولی سے خطرہ ہے

ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے

جونؔ ہی تو ہے جونؔ کے درپے
*میر* کو *میر* ہی سے خطرہ ہے

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا

دل جو دیوانہ نہیں آخر کو دیوانہ بھی تھا
بھُولنے پر اس کو جب آیا تو پہچانا بھی تھا

جانیے کس شوق میں رشتے بچھڑ کر رہ گئے
کام تو کوئی نہیں تھا پر ہمیں جانا بھی تھا

اجنبی سا ایک موسم ایک بے موسم سی شام
جب اُسے آنا نہیں تھا جب اُسے آنا بھی تھا

جانیے کیوں دل کی وحشت درمیاں میں آ گئی
بس یونہی ہم کو بہکنا بھی تھا بہکانا بھی تھا

اک مہکتا سا وہ لمحہ تھا کہ جیسے اک خیال
اک زمانے تک اسی لمحے کو تڑپانا بھی تھا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

چلو بادِ بہاری جا رہی ہے
پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

شمالِ جاودانِ سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے

فغاں اے دشمنی دارِ دل و جاں
مری حالت سُدھاری جا رہی ہے

جو اِن روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بُردباری جا رہی ہے

ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے

میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہے
وہ کیا شہ ہے جو ہاری جا رہی ہے

دل اُس کے رُو برو ہے اور گُم صُم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے

وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے

ہے برپا ہر گلی میں شورِ نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے

وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رُخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے

دریغا ! تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے

بہت بدحال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تُو کیوں سنواری جا رہی ہے

تری مرہم نگاہی اے مسیحا!
خراشِ دل پہ واری جا رہی ہے

خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

چلو بادِ بہاری جا رہی ہے
پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

شمالِ جاودانِ سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے

فغاں اے دشمنی دارِ دل و جاں
مری حالت سُدھاری جا رہی ہے

جو اِن روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بُردباری جا رہی ہے

ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے

میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہے
وہ کیا شہ ہے جو ہاری جا رہی ہے

دل اُس کے رُو برو ہے اور گُم صُم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے

وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے

ہے برپا ہر گلی میں شورِ نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے

وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رُخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے

دریغا ! تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے

بہت بدحال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تُو کیوں سنواری جا رہی ہے

تری مرہم نگاہی اے مسیحا!
خراشِ دل پہ واری جا رہی ہے

خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا

نہیں نباہی خوشی سے غمی کو چھوڑ دیا
تمہارے بعد بھی میں نے کئی کو چھوڑ دیا

ہوں جو بھی جان کی جاں وہ گمان ہوتے ہیں
سبھی تھے جان کی کی جاں اور سبھی کو چھوڑ دیا

شعور ایک شعورِ فریب ہے سو تو ہے
غرض کہ آگہی، ناآگہی کو چھوڑ دیا

خیال و خواب کی اندیشگی کے سُکھ جھیلے
خیال و خواب کی اندیشگی کو چھوڑ دیا
*
مہک سے اپنی گَلِ تازہ مست رہتا ہے
وہ رنگِ رُخ ہے کہ خود غازہ مست رہتا ہے

نگاہ سے کبھی گزرا نہیں وہ مست انداز
مگر خیال سے، اندازہ مست رہتا ہے

کہاں سے ہے رَسدِ نشہ، اس کی خلوت میں
کہ رنگ مست کا اندازہ مست رہتا ہے

یہاں کبھی کوئی آیا نہیں مگر سرِ شام
بس اک گمان سے دروازہ مست رہتا ہے

مجھے خیال کی مستی میں کس کا اندازہ
خدا نہیں جو باندازہ مست رہتا ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


عجب حالت ہماری ہو گئی ہے

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے
یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے

سخن میرا اداسی ہے سرِ شام
جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے

بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر
زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے

وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا
مری آواز بھاری ہو گئی ہے

دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی
بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے

یقیں معزور ہے اب اور گماں بھی
بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے

وہ اک بادِ شمالی رنگ جو تھی
شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے

اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے
جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے

اک بات ہی کہنی ہے مجھے تجھ سے، بس اک بات
اس شہر میں تُو صرف گنوانے کے لیے ہے

ہر شخص مری ذات سے جانے کے لیے تھا
تُو بھی تو مری ذات سے جانے کے لیے ہے

جو رنگ ہیں سہہ لے انہیں جو رنگ ہیں سہہ لے
یاں جو بھی ہنر ہے وہ کمانے کے لیے ہے

بودش جو ہے وہ ایک تماشہ ہے گماں کا
ہے جو بھی حقیقت وہ فسانے کے لیے ہے

ہنسنے سے کبھی خوش نہیں ہوتا ہے میرا دل
یاں مجھ کو ہنسانا بھی رُلانے کے لیے ہے

قاتل کو مرے مجھ سے نہیں ہے کوئی پَرخاش
قاتل تو مرا رنگ جمانے کے لیے ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے

اک دل ہے جو جو ہر لمحہ جلانے کے لیے ہے
جو کچھ ہے یہاں آگ لگانے کے لیے ہے

اک بات ہی کہنی ہے مجھے تجھ سے، بس اک بات
اس شہر میں تُو صرف گنوانے کے لیے ہے

ہر شخص مری ذات سے جانے کے لیے تھا
تُو بھی تو مری ذات سے جانے کے لیے ہے

جو رنگ ہیں سہہ لے انہیں جو رنگ ہیں سہہ لے
یاں جو بھی ہنر ہے وہ کمانے کے لیے ہے

بودش جو ہے وہ ایک تماشہ ہے گماں کا
ہے جو بھی حقیقت وہ فسانے کے لیے ہے

ہنسنے سے کبھی خوش نہیں ہوتا ہے میرا دل
یاں مجھ کو ہنسانا بھی رُلانے کے لیے ہے

قاتل کو مرے مجھ سے نہیں ہے کوئی پَرخاش
قاتل تو مرا رنگ جمانے کے لیے ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم

دل گماں تھا گمانیاں تھے ہم
ہاں میاں داستانیاں تھے ہم

ہم سُنے اور سُنائے جاتے تھے
رات بھرکی کہانیاں تھے ہم

جانے ہم کِس کی بُود کا تھے ثبوت
جانے کِس کی نشانیاں تھے ہم

چھوڑتے کیوں نہ ہم زمیں اپنی
آخرش آسمانیاں تھے ہم

ذرہ بھر بھی نہ تھی نمود اپنی
اور پھر بھی جہانیاں تھے ہم

ہم نہ تھے ایک آن کے بھی مگر
جاوداں، جاودانیاں تھے ہم

روز اِک رَن تھا تیر و ترکش بِن
تھے کمیں اور کمانیاں تھے ہم

ارغوانی تھا وہ پیالۂ ناف
ہم جو تھے ارغوانیاں تھے ہم

نار پستان تھی وہ قتّالہ
اور ہوس درمیانیاں تھے ہم

ناگہاں تھی اک آنِ آن کہ تھی
ہم جو تھے ناگہانیاں تھے ہم

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل سے اب رسم و راہ کی جائے

دل سے اب رسم و راہ کی جائے
لب سے کم ہی نباہ کی جائے

گفتگو میں ضرر ہے معنی کا
گفتگو گاہ گاہ کی جائے

ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے

ہوس انگیز ہوں بدن جن کے
اُن میں سب سے نباہ کی جائے

اپنے دل کی پناہ میں آ کر
زندگی بے پناہ کی جائے

ذات اپنی گواہ کی جائے
بند آنکھوں نگاہ کی جائے

ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن
کچھ تو اس کی بھی چاہ کی جائے

ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے

دل! ہے اس میں ترا بَھلا کہ تری
مملکت بے سپاہ کی جائے

ملکہ جو بھی اپنے دل کی نہ ہو
جونؔ ! وہ بے کلاہ کی جائے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل سے اب رسم و راہ کی جائے

دل سے اب رسم و راہ کی جائے
لب سے کم ہی نباہ کی جائے

گفتگو میں ضرر ہے معنی کا
گفتگو گاہ گاہ کی جائے

ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیں
اپنی حالت تباہ کی جائے

ہوس انگیز ہوں بدن جن کے
اُن میں سب سے نباہ کی جائے

اپنے دل کی پناہ میں آ کر
زندگی بے پناہ کی جائے

ذات اپنی گواہ کی جائے
بند آنکھوں نگاہ کی جائے

ہم تو بس اپنی چاہ میں ہیں مگن
کچھ تو اس کی بھی چاہ کی جائے

ایک ناٹک ہے زندگی جس میں
آہ کی جائے، واہ کی جائے

دل! ہے اس میں ترا بَھلا کہ تری
مملکت بے سپاہ کی جائے

ملکہ جو بھی اپنے دل کی نہ ہو
جونؔ ! وہ بے کلاہ کی جائے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں

آ کہ جہانِ بے خبراں میں بے خبرانہ رقص کریں
خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں

فن تو حسابِ تنہائی شرط بَھلا کِس شے کی ہے
یعنی اُٹھیں اور بے خلخال و طبل و ترانہ رقص کریں

داد سے جب مطلب ہی نہیں تو عذر بَھلا کس بات کا ہے
ہم بھی بزمِ بے بصراں میں بے بصرانہ رقص کریں

ہم پہ ہنر کے قدر شناساں ناز کناں ہیں یعنی ہم
سازِ شکستِ دل کی صدا پر عشوہ گرانہ رقص کریں

تختۂ گُل ہو عذر انگیز آبلہ پائی اپنے لیے
ہاں سرِ نشتر ہا ز کرانہ تا بہ کرانہ رقص کریں

مرضیِ مولا از ہمہ اولیٰ شوق ہمارا مولا ہے
ہم وہ نہیں جو بزم طرب میں پیشہ ورانہ رقص کریں

بر سر شور و بر سرِ سورش بر سرِ شبخوں بر سرِ خوں
چل کہ حصارِ فتنہ گراں میں فتنہ گرانہ رقص کریں

کوئی نہیں جو آ ٹکرائے سب چوراہے خالی ہیں
چل کہ سرِ بازارِ تباہی بے خطرانہ رقص کریں

بعدِ ہنر آموزی ہم کو تھا پندِ استاد کہ ہم
با ہنرانہ رقص میں آئیں بے ہنرانہ رقص کریں

اپنے بدن پر اپنے خوں میں غیر کا خوں بھی شامل ہو
بارگہِ پرویز میں چل کر تیشہ ورانہ رقص کریں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں

آ کہ جہانِ بے خبراں میں بے خبرانہ رقص کریں
خیرہ سرانہ شور مچائیں خیرہ سرانہ رقص کریں

فن تو حسابِ تنہائی شرط بَھلا کِس شے کی ہے
یعنی اُٹھیں اور بے خلخال و طبل و ترانہ رقص کریں

داد سے جب مطلب ہی نہیں تو عذر بَھلا کس بات کا ہے
ہم بھی بزمِ بے بصراں میں بے بصرانہ رقص کریں

ہم پہ ہنر کے قدر شناساں ناز کناں ہیں یعنی ہم
سازِ شکستِ دل کی صدا پر عشوہ گرانہ رقص کریں

تختۂ گُل ہو عذر انگیز آبلہ پائی اپنے لیے
ہاں سرِ نشتر ہا ز کرانہ تا بہ کرانہ رقص کریں

مرضیِ مولا از ہمہ اولیٰ شوق ہمارا مولا ہے
ہم وہ نہیں جو بزم طرب میں پیشہ ورانہ رقص کریں

بر سر شور و بر سرِ سورش بر سرِ شبخوں بر سرِ خوں
چل کہ حصارِ فتنہ گراں میں فتنہ گرانہ رقص کریں

کوئی نہیں جو آ ٹکرائے سب چوراہے خالی ہیں
چل کہ سرِ بازارِ تباہی بے خطرانہ رقص کریں

بعدِ ہنر آموزی ہم کو تھا پندِ استاد کہ ہم
با ہنرانہ رقص میں آئیں بے ہنرانہ رقص کریں

اپنے بدن پر اپنے خوں میں غیر کا خوں بھی شامل ہو
بارگہِ پرویز میں چل کر تیشہ ورانہ رقص کریں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


خود مست ہوں خود سے آ ملا ہوں

خود مست ہوں خود سے آ ملا ہوں
اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں

میں ہمسفروں کی گرد کے بیچ
اک خود سفری کا قافلہ ہوں

خوشبو کے بدن میں تیرا ملبوس
دم لے کہ ابھی نہیں سِلا ہوں میں

میں نشۂ ذات میں نہتا
احباب سے اپنے آ مِلا ہوں

میں صر صرِ لفظ میں ہوں معنی
پس اپنی جگہ سے کب ہِلا ہوں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں

بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

نہیں ترکِ محبت پر وہ راضی
قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں

یقیں کا راستہ طے کرنے والے
بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں

یہ مت بھُولو کہ یہ لمحات ہم کو
بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں

تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں

تمہیں چاہیں گے جب چھِن جاؤ گی تو
ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں

کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے
ہم اپنے عیب خود گِنوا رہے ہیں

وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں
مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں

دلیلوں سے اسے قائل کیا تھا
دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں

تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے
نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں

یہ جذبہ عشق ہے یا جذبۂ رحم
ترے آنسو مجھے رُلوا رہے ہیں

عجب کچھ ربط ہے تم سے تم کو
ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں

وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی
مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


جبر پُر اختیار ہے ، اماں ہاں

جبر پُر اختیار ہے ، اماں ہاں
بیقراری قرار ہے ، اماں ہاں

ایزدِ یزداں ہے تیرا انداز
اہرمن دل فگار ہے ، اماں ہاں

میرے آغوش میں جو ہے اُس کا
دَم بہ دَم انتظار ہے ، اماں ہاں

ہے رقیب اُس کا دوسرا عاشق
وہی اِک اپنا یار ہے ، اماں ہاں

یار زردی ہے رنگ پر اپنے
سو خزاں تو بہار ہے ، اماں ہاں

لب و پستان و ناف اس کے نہ پوچھ
ایک آشوبِ کار ہے ، اماں ہاں

سنگ در کے ہوں یا ہوں دار کے لوگ
سب پہ شہوت سوار ہے ، اماں ہاں

اب تو انساں کے معجزے ہیں عام
اور انسان خوار ہے ، اماں ہاں

ایک ہی بار بار ہے ، اماں ہاں
اک عبث یہ شمار ہے ، اماں ہاں

ذرّہ ذرّہ ہے خود گریزانی
نظم ایک انتشار ہے ، اماں ہاں

ہو وہ یزداں کہ آدم و ابلیس
جو بھے خود شکار ہے ، اماں ہاں

وہ جو ہے جو *کہیں* نہیں اس کا
سب کے سینوں پہ بار ہے ، اماں ہاں

اپنی بے روزگاریِ جاوید
اک عجب روزگار ہے ، اماں ہاں

شب خرابات میں تھا حشر بپا
کہ سخن ہرزہ کار ہے ، اماں ہاں

کیا کہوں فاصلے کے بارے میں
رہگزر ، رہگزر ہے ، اماں ہاں

بھُولے بھُولے سے ہیں وہ عارض و لب
یاد اب یادگار ہے ، اماں ہاں

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے

دل کتنا آباد ہوا جب دید کے گھر برباد ہوئے
وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے

ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو تو
گلگوں اب تک کتنے تیشے بے خونِ فرہاد ہوئے

لائیں کہاں سے بول رسیلے ہونٹوں کی ناداری میں
سمجھو ایک زمانہ گزرا بوسوں کی امداد ہوئے

تم میری اک خود مستی ہو میں ہوں تمہاری خود بینی
رشتے میں اس عشق کے ہم تم دونوں بے بنیاد ہوئے

میرا کیا اک موجِ ہوا ہوں پر یوں ہے اے غنچہ دہن
تُو نے دل کا باغ جو چھوڑا غنچے بے استاد ہوئے

عشق محلے میں اب یارو کیا کوئی معشوق نہیں
کتنے قاتل موسم گزرے شور ہوئے فریاد ہوئے

ہم نے دل کو مار رکھا ہے اور جتاتے پھرتے ہیں
ہم دل زخمی مژگاں خونیں ہم نہ ہوئے جلاد ہوئے

برق کیا ہے عکسِ بدن نے تیرے ہمیں اے تنگ قبا
تیرے بدن پر جتنے تِل ہیں سارے ہم کو یاد ہوئے

تُو نے کبھی سوچا تو ہو گا۔۔سوچا بھی اے مست ادا
تیری ادا کی آبادی پر کتنے گھر برباد ہوئے

جو کچھ بھی رودادِ سخن تھی ہونٹوں کی دُوری سے تھی
جب ہونٹوں سے ہونٹ ملے تو یکدم بے رُوداد ہوئے

خاک نشینوں سے کوچے کے کیا کیا نخوت کرتے ہیں
جاناں جان! ترے درباں تو فرعون و شدّاد ہوئے

شہروں میں ہی خاک اُڑا لو شور مچا لو بے حالو
جن دَشتوں کی سوچ رہے ہو وہ کب کے برباد ہوئے

سمتوں میں بکھری وہ خلوت۔۔وہ دل کی رنگ آبادی
یعنی وہ جو بام و دَر تھے یکسر گرد و باد ہوئے

تُو نے رندوں کا حق مارا مے خانے میں رات گئے
شیخ!! کھرے سیّد ہیں ہم تو ہم نے سُنا ناشاد ہوئے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


شام تک میری بے کلی ہے شراب

شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سر خوشی ہے شراب

جہل واعظ کا اُس کو راس آئے
صاحبو! میری آگہی ہے شراب

رَنگ رَس ہے میری رگوں میں رواں
بخدا میری زندگی ہے شراب

ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل ، میری دلبری ہے شراب

ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب

حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفتیو! میری بےحسی ہے شراب

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


دل کی تکلیف کم نہیں کرتے

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے
اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے

جانِ جاں تجھ کو اب تری خاطر
یاد ہم کوئی دَم نہیں کرتے

دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم
سرِ تسلیم خم نہیں کرتے

وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے
ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


یہاں تو کوئی مَن چلا ہی نہیں

یہاں تو کوئی مَن چلا ہی نہیں
کہ جیسے یہ شہرِ بَلا ہی نہیں

ترے حسرتی کے ہے دل پر یہ داغ
کوئی اب ترا مبتلا ہی نہیں

ہوئی اُس گلی میں فضیحت بہت
مگر میں وہاں سے ٹَلا ہی نہیں

نِکل چل کبھی آپ سے جانِ جاں
ترے دل میں تو ولولہ ہی نہیں

دمِ آخر جو بچھڑے تو بس
پتا بھی کسی کا چَلا ہی نہیں

قیامت تھی اُس کے شکم کی شکن
کوئی بس مرا پھر چلا ہی نہیں

اُسے خون سے اپنے سینچا مگر
تمنا کا پودا پَھلا ہی نہیں

کہاں جا کے دنیا کو ڈالوں بَھلا
ادھر تو کوئی مزبلہ ہی نہیں

اک انبوہِ خونیں دلاں ہے مگر
کسی میں کوئی حوصلہ ہی نہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


رہن سرشاریِ فضا کے ہیں

رہن سرشاریِ فضا کے ہیں
آج کے بعد ہم ہوا کے ہیں

ہم کو ہر گز نہیں خدا منظور
یعنی ہم بے طرح خدا کے ہیں

کائناتِ سکوت بس خاموش
ہم تو شوقِ سخن سرا کے ہیں

جتنے بھی اہلِ فن ہیں دنیا کے
ملتمس بابِ التجا کے ہیں

باز آ جایئے کہ سب فتنے
آپ کی کیوں کے اور کیا کے ہیں

اب کوئی گفتگو نہیں ہوگی
ہم فنا کے تھے ہم فنا کے ہیں

ہم کہ ہیں جونؔ حاصلِ ایجاد
کیا ستم ہے کہ ہم فنا کے ہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


بخشش ہوا یقین۔۔گماں بے لباس ہے

بخشش ہوا یقین۔۔گماں بے لباس ہے
ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے

ہے یہ فضا ہزار لباسوں کا اک لباس
جو بے لباس ہے وہ کہاں بے لباس ہے

ملبوس تار تارِ نفس ہے زیانِ سود
سُودِ زیان یہ ہے کہ زیاں بے لباس ہے

محمل نشینِ رنگ! کوئی پوستینِ رنگ
ریگِ رواں ہوں۔۔ریگِ رواں بے لباس ہے

اب پارہ پارہ پوششِ گفتار بھی نہیں
ہیں سانس بے رفو سو زیاں بے لباس ہے

صد جامہ پوش جس کا ہے جسم برہنہ ابھی
خلوت سرائے جاں میں وہ جاں بے لباس ہے

ہے دل سے ہر نفس ہوسِ دید کا سوال
خلوت ہے وہ کہاں۔۔وہ جہاں بے لباس ہے

ہے بُود اور نبود میں پوشش نہ پیرہن
یاراں مکین کیا کہ مکاں بے لباس ہے

تُو خود ہی دیکھ رنگِ بدن اپنا جوش رنگ
تُو اپنے ہر لباس میں جاں بے لباس ہے

غم کی برہنگی کو کہاں سے جُڑے لباس
میں لب سیے ہوئے ہوں۔۔فغاں بے لباس ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی

کوئی گماں بھی نہیں درمیاں گماں ہے یہی
اسی گماں کو بچا لوں کہ درمیاں ہے یہی

یہ آدمی کے ہیں انفاس جس کے زہر فروش
اسے بٹھاؤ کہ میرا مزاج داں ہے یہی

کبھی کبھی جو نہ آؤ نظر تو سہہ لیں گے
نظر سے دُور نہ ہونا کہ امتحاں ہے یہی

میں آسماں کا عجب کچھ لحاظ رکھتا ہوں
جو اس زمین کو سہہ لے وہ آسماں ہے یہی

یہ ایک لمحہ جو دریافت کر لیا میں نے
وصالِ جاں ہے یہی اور فراقِ جاں ہے یہی

تم اُن میں سے ہو جو یاں فتح مند ٹھہرے ہیں
سنو کہ وجہِ غمِ دل شگستگاں ہے یہی

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


کون سے شوق کِس ہوس کا نہیں

کون سے شوق کِس ہوس کا نہیں
دل میری جان تیرے بس کا نہیں

راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے
شوق کچھ نغمۂ جرس کا نہیں

ہاں میرا وہ معاملہ ہے کہ اب
کام یارانِ نکتہ رَس کا نہیں

ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں
کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں

ہو گئی اس گِلے میں عمر تمام
پاس شعلے کو خاروخس کا نہیں

مُجھ کو خود سے جُدا نہ ہونے دو
بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں

کیا لڑائی بَھلا کہ ہم میں سے
کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل تمنا سے ڈر گیا جانم

دل تمنا سے ڈر گیا جانم
سارا نشہ اُتر گیا جانم

اک پلک بیچ رشتۂ جاں سے
ہر زمانہ گزر گیا جانم

تھا غضب فیصلے کا اِک لمحہ
کون پھر اپنے گھر گیا جانم

جانے کیسی ہوا چلی اک بار
دل کا دفتر بِکھر گیا جانم

اپنی خواب و خیال دنیا کو
کون برباد کر گیا جانم

تھی ستم ہجر کی مسیحائی
آخرش زخم بھر گیا جانم

اب بَھلا کیا رہا ہے کہنے کو
یعنی میں بے اثر گیا جانم

نہ رہا دل نہ داستاں دل کی
اب تو سب کچھ بسر گیا جانم

زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


گماں کی اک پریشاں منظری ہے

گماں کی اک پریشاں منظری ہے
بس اک دیوار ہے اور بے دری ہے

اگرچہ زہر ہے دنیا کی ہر بات
میں پی جاؤں اسی میں بہتری ہے

تُو اے بادِ خزاں اس گُل سے کہیو
کہ شاخ اُمید کی اب تک ہری ہے

گلی میں اس نگارِ ناشنو کی
فغاں کرنا ہماری نوکری ہے

کوئی لہکے خیابانِ صبا میں
یہاں تو آگ سینے میں بھری ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


گِلے سے باز آیا جا رہا ہے

گِلے سے باز آیا جا رہا ہے
سو پیہم گنگنایا جا رہا ہے

نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے

وہاں اب میں کہاں اب تو وہاں سے
مرا سامان لایا جا رہا ہے

عجب ہے ایک حالت سی ہوا میں
ہمیں جیسے گنوایا جا رہا ہے

اب اس کا نام بھی کب یاد ہو گا
جسے ہر دَم بھُلایا جا رہا ہے

چراغ اس طرح روشن کر رہا ہوں
کہ جیسے گھر جلایا جا رہا ہے

بَھلا تم کب چلے تھے یوں سنبھل کر
کہاں سے اُٹھ کے جایا جا رہا ہے

تو کیا اب نیند بھی آنے لگی ہے
تو بستر کیوں بِچھایا جا رہا ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


شہر بہ شہر کر سفر زادِ سفر لیے بغیر

شہر بہ شہر کر سفر زادِ سفر لیے بغیر
کوئی اثر کیے بغیر کوئی اثر لیے بغیر

کوہ و کمر میں ہم صفیر کچھ نہیں اب بجز ہوا
دیکھیو پلٹیو نہ آج شہر سے پَر لیے بغیر

وقت کے معرکے میں تھیں مجھ کو رعایتیں ہوس
میں سرِ معرکہ گیا اپنی سِپر لیے بغیر

کچھ بھی ہو قتل گاہ میں حُسنِ بدن کا ہے ضرر
ہم نہ کہیں سے آئیں گے دو پر سر لیے بغیر

قریۂ گریہ میں مرا گریہ ہنرورانہ ہے
یاں سے کہیں ٹلوں گا میں دادِ ہنر لیے بغیر

اُسکے بھی کچھ گِلے ہیں دل۔۔ان کا حساب تم رکھو
دید نے اس میں کی بسر اس کی خبر لیے بغیر

اُس کا سخن بھی جا سے ہے اور وہ یہ کہ جونؔ تم
شہرۂ شہر ہو تو کیا شہر میں گھر لیے بغیر

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.