Category Archives: غزل

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے

مجھ کو شبِ وجود میں تابشِ خواب چاہیے
شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے

آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام
صرف شراب چاہیے ، صرف شراب چاہیے

کچھ بھی نہیں ہے ذہن میں کچھ بھی نہیں سو اب مجھے
کوئی سوال چاہیے کوئی جواب چاہیے

اس سے نبھے گا رشتۂ سود و زیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بَلا کا بدحساب اس کو حساب چاہیے

امن و امانِ شہرِ دل خواب و خیال ہے ابھی
یعنی کہ شہرِ دل کا حال اور خراب چاہیے

جانِ گماں ہمیں تو تم صرف گمان میں رکھو
تشنہ لبی کو ہر نفس کوئی سراب چاہیے

کھُل تو گیا ہے دل میں ایک مکتبِ حسرت و اُمید
جونؔ اب اس کے واسطے کوئی نصاب چاہیے

Posted By 
http://yawarmaajed.wordpress.com

دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو

دل جو ہے آگ لگا دوں اس کو
اور پھر خود ہی ہوا دوں اس کو

جو بھی ہے اس کو گنوا بیٹھا ہے
میں بھلا کیسے گنوا دوں اس کو

تجھ گماں پر جو عمارت کی تھی
سوچتا ہوں کہ میں ڈھا دوں اس ک

جسم میں آگ لگا دوں اس کے
اور پھر خود ہی بجھا دوں اس کو

ہجر کی نظر تو دینی ہے اسے
سوچتا ہوں کہ بھُلا دوں اس کو

جو نہیں ہے مرے دل کی دنیا
کیوں نہ میں جونؔ مِٹا دوں اس کو

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے

بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بھُولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حُزن دل میں نکہتِ موجِ صبا سے ہے

دستِ شجر کی تحفہ رسانی ہے تا بہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے

جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے

دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
ناآشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے

اس میں کوئی گِلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے

آئے وہ کِس ہنر سے لبوں پر کہ مجھ میں *جون*
اک خامشی ہے جو مرے شورِ نوا سے ہے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


آدمی وقت پر گیا ہوگا

آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا

خود سے مایوس ہو کر بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا

شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا

مرہمِ ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے

وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
کیسے دنیا جہان چھوڑ گئے

اے زمینِ وصال لوگ ترے
ہجر کا آسمان چھوڑ گئے

تیرے کوچے کے رُخصتی جاناں
ساری دنیا کا دھیان چھوڑ گئے

روزِ میداں وہ تیرے تیر انداز
تیر لے کر کمان چھوڑ گئے

جونؔ لالچ میں آن بان کی یار
اپنی سب آن بان چھوڑ گئے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے

جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے
ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے

رنگِ سرشاری کی تھی جِن سے رَسَد
دل کی ان فصلوں کے جنگل کٹ گئے

اک چراغاں ہے حرم میں دیر میں
جشن اس کا ہے دل و جاں بٹ گئے

شہرِ دل اور شہرِ دنیا الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے

ہو گیا سکتہ خرد مندوں کو جب
مات کھاتے ہی دوانے ڈٹ گئے

چاند سورج کے عالم اور واپسی
وہ ہوا ماتم کہ سینے پھٹ گئے

کیا بتائیں کتنے شرمندہ ہیں ہم
تجھ سے مِل کر اور بھی ہم گھٹ گئے

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


میں دل کی شراب پی رہا ہوں

میں دل کی شراب پی رہا ہوں
پہلو کا عذاب پی رہا ہوں

میں اپنے خرابۂ عبث میں
بے طرح خراب پی رہا ہوں

ہے میرا حساب بے حسابی
دریا میں سراب پی رہا ہوں

ہیں سوختہ میرے چشم و مژگاں
میں شعلۂ خواب پی رہا ہوں

دانتوں میں ہے میرے شہ رگ جاں
میں خونِ شباب پی رہا ہوں

میں اپنے جگر کا خون کر کے
اے یار شتاب پی رہا ہوں

میں شعلۂ لب سے کر کے سیّال
طاؤس و رباب پی رہا ہوں

وہ لب ہیں بَلا کے زہر آگیں
میں جن کا لعاب پی رہا ہوں

Posted By  http://yawarmaajed.wordpress.com


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.