Category Archives: مبادا

تم بھی یہاں سے بھاگ چلو

ہیں بے طور یہ لوگ تمام
ان کے سانچہ میں نہ ڈھلو
میں بھی یہاں سے بھاگ چلوں
تم بھی یہاں سے بھاگ چلو

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


اس طرح آج اُن کی یاد آئی

دور نظروں سے خلوتِ دل میں
اس طرح آج اُن کی یاد آئی
ایک بستی کے پار شام کا وقت
جیسے بجتی ہو شہنائی

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


تم نے باتوں میں زہر کھول دیا

تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں
خیر یہ راز آج کھول دیا
ہو اجازت کہ جا رہا ہوں میں
تم نے باتوں میں زہر کھول دیا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


اتنے بیٹھے تھے ، کون شرمایا ؟

چڑھ گیا سانس جھک گئیں نظریں
رنگ رخسار میں سمٹ آیا
ذکر سن کر مری محبت کا
اتنے بیٹھے تھے ، کون شرمایا ؟

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


لوگ کہتے ہیں ، مگر میں تو نہیں کہتا ہوں

آپ کی تلخ نوائی کی ضرورت ہی نہیں
میں تو ہر وقت ہی مایوسِ کرم رہتا ہوں
آپ سے مجھ کو ہے اک نسبتِ احساسِ لطیف
لوگ کہتے ہیں ، مگر میں تو نہیں کہتا ہوں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


لو مجھے اب جلا ہی ڈالو تم

تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ
آگ کی طرح اپنی انچ میں گم
پھر مرے بازوں پہ جھُک آئیں
لو مجھے اب جلا ہی ڈالو تم

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


شنکر جی

دُکھ ہیں اور میں ہوں
میں ہوں اور دُکھ ہیں
قاتل تر سُکھ ہیں
شنکر جی، گونگے شنکر جی
ہونٹ میرے کُکھ ہیں
میں ہوں اور دُکھ ہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


وہ جو ہوتا تو اُسے بھی نہ گوارا کرتے

لہو روتے نہ اگر ہم دمِ رخصت یاراں
کیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتے
چلو اچھا ہے کہ وہ بھی نہیں نزدیک اپنے
وہ جو ہوتا تو اُسے بھی نہ گوارا کرتے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


کوئی بھی نہیں مِلا وہاں تو

کیا ہو گئیں اپنی وعدہ گاہیں
ہر چیز بدل گئی یہاں تو
میں شہرِ وفا سے آ رہا ہوں
کوئی بھی نہیں مِلا وہاں تو

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


متاعِ جاں! تمہارا نام کیا ہے

عجب تھا اس کی دلداری کا انداز
وہ برسوں بعد جب مجھ سے مِلا ہے
بَھلا میں پوچھتا اس سے تو کیسے
متاعِ جاں! تمہارا نام کیا ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


تم صراحی ضرور توڑو گی

بات ہی کب کسی کی مانی ہے
اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
یہ کلائی یہ جسم اور یہ کمر
تم صراحی ضرور توڑو گی

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو

نشۂ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
اپنے ہی زور میں کمزور ہوئی جاتی ہو
میں کوئی آگ نہیں، آنچ نہیں، دھوپ نہیں
کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


شکوہ اول تو بے حساب کیا

شکوہ اول تو بے حساب کیا
اور پھر بند ہی یہ باب کیا

جانتے تھے بدی عوام جسے
ہم نے اس سے بھی اجتناب کیا

تھی کسی شخص کی تلاش مجھے
میں نے خود کو ہی انتخاب کیا

اک طرف میں ہوں ، اک طرف تم ہو
جانے کس نے کسے خراب کیا

آخر اب کس کی بات مانوں میں
جو مِلا ، اس نے لاجواب کیا

یوں سمجھ تجھ کہ مضطرب پا کر
میں نے اظہارِ اضطراب کیا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ناروا ہے سخن شکایت کا

ناروا ہے سخن شکایت کا
وہ نہیں تھا میری طبیعت کا

دشت میں شہر ہو گئے آباد
اب زمانہ نہیں ہے وحشت کا

وقت ہے اور کوئی کام نہیں
بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا

بس اگر تذکرہ کروں تو کروں
کس کی زلفوں کا کس کی قامت کا

مر گئے خواب سب کی آنکھوں کے
ہر طرف ہے گلہ حقیقت کا

اب مجھے دھیان ہی نہیں آتا
اپنے ہونے کا ، اپنی حالت کا

تجھ کو پا کر زیاں ہوا ہم کو
تو نہیں تھا ہماری قیمت کا

صبح سے شام تک میری دُنیا
ایک منظر ہے اس کی رخصت کا

کیا بتاؤں کہ زندگی کیا تھی
خواب تھا جاگنے کی حالت کا

کہتے ہیں انتہائے عشق جسے
اک فقط کھیل ہے مروت کا

آ گئی درمیان روح کی بات
ذکر تھا جسم کی ضرورت کا

زندگی کی غزل تمام ہوئی
قافیہ رہ گیا محبت کا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چُھپا

نہ پوچھ اس کی جو اپنے اندر چُھپا
غنیمت کہ میں اپنے باہر چُھپا

مجھے یاں کسی پہ بھروسہ نہیں
میں اپنی نگاہوں سے چھپ کر چُھپا

پہنچ مخبروں کی سخن تک کہاں
سو میں اپنے ہونٹوں میں اکثر چُھپا

مری سن! نہ رکھ اپنے پہلو میں دل
اسے تو کسی اور کے گھر چُھپا

یہاں تیرے اندر نہیں میری خیر
مری جاں مجھے میرے اندر چُھپا

خیالوں کی آمد میں یہ آرجار
ہے پیروں کی یلغار تو سر چُھپا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل کا دیارِ خواب میں ، دور تلک گُزر رہا
پاؤں نہیں تھے درمیاں ، آج بڑا سفر رہا

ہو نہ سکا کبھی ہمیں اپنا خیال تک نصیب
نقش کسی خیال کا ، لوِح خیال پر رہا

نقش گروں سے چاہیے ، نقش و نگار کا حساب
رنگ کی بات مت کرو رنگ بہت بکھر رہا

جانے گماں کی وہ گلی ایسی جگہ ہے کون سی
دیکھ رہے ہو تم کہ میں پھر وہیں جا کے مر رہا

شہرِ فراقِ یار سے آئی ہے اک خبر مجھے
کوچہ یادِ یار سے ، کوئی نہیں اُبھر رہا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


وقت درماں پذیر تھا ہی نہیں

وقت درماں پذیر تھا ہی نہیں
دل لگایا تھا، دل لگا ہی نہیں

ترکِ الفت ہے کس قدر آسان
آج تو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں

ہے کہاں موجۂ صبا و شمیم
جیسے تو موجۂ صبا ہی نہیں

جس سے کوئی خطا ہوئی ہو کبھی
ہم کو وہ آدمی ملا ہی نہیں

وہ بھی کتنا کٹھن رہا ہو گا
جو کہ اچھا نہ تھا ، برا بھی نہیں

کوئی دیکھے تو میرا حجرۂ ذات
یاں سبھی کچھ وہ تھا جو تھا ہی نہیں

ایک ہی اپنا ملنے والا تھا
ایسا بچھڑا کہ پھر ملا ہی نہیں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


میرا میری ذات میں سودا ہوا

میرا میری ذات میں سودا ہوا
اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا

کیا سناؤں سرگزشتِ زندگی
اک سرائے میں تھا میں ٹھیرا ہوا

پاس تھا رشتوں کا جس بستی میں عام
میں اس بستی میں بے رشتہ ہوا

اک گلی سے جب سے روٹھن ہے مری
میں ہوں سارے شہر سے روٹھا ہوا

پنج شنبہ اور دکانِ مے فروش
کیا بتاؤں کیسا ہنگامہ ہوا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں

تم میرا دکھ بانٹ رہی ہو اور میں دل میں شرمندہ ہوں
اپنے جھوٹے دکھ سے تم کوکب تک دکھ پہنچاؤں گا

تم تو وفا میں سرگرداں ہو شوق میں رقصاں رہتی ہو
مجھ کو زوالِ شوق کا غم ہے میں پاگل ہو جاؤں گا

جیت کے مجھ کو خوش مت ہونا میں تو اک پچھتاوا ہوں
کھوؤں گا ، کڑھتا رہوں گا ، پاؤں گا ، پچھتاؤں گا

عہدِ رفاقت ٹھیک ہے لیکن مجھ کو ایسا لگتا ہے
تم میرے ساتھ رہو گی میں تنہا رہ جاؤں گا

شام کہ اکثر بیٹھے بیٹھے دل کچھ ڈوبنے لگتا ہے
تم مجھ کو اتنا نہ چاہوں میں شاید مر جاؤں گا

عشق کسی منزل میں آ کر اتنا بھی بے فکر نہ رہو
اب بستر پر لیٹوں گا میں لیٹتے ہی سو جاؤں گا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں

ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں

اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
ڈھول کے پیش و نظر پس لکھے جاؤں

مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں

ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں

ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ایک سایہ میرا مسیحا تھا

ایک سایہ میرا مسیحا تھا
کون جانے وہ کون تھا ، کیا تھا

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حجرے سے بھی کم نکلتا تھا

تجھ کو بھُولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

وہ جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

بات تو دل شکن سی ہے یارو
عقل سچی تھی ، عشق سچا تھا

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

جسم کی صاف گوئی کے با و صف
روح نے کتنا سچ بولا تھا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

جاں سے بھی گئے ، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گلہ ہے

اب وصل ہو یا ہجر ، نہ اب تک بسر آیا
اک لمحہ ، جسے لمحہ شماروں سے گلہ ہے

اڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی
صحراؤں پر شور دیاروں سے گلہ ہے

بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کار گزاروں سے گلہ ہے

بے فصل اشاروں سے ہوا خونِ جنوں کا
ان شوخ نگاہوں کے اشاروں سے گلہ ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش

دل کو دنیا کا ہے سفر درپیش
اور چاروں طرف ہے گھر درپیش

ہے یہ عالم عجیب اور یہاں
ماجرا ہے عجیب تر درپیش

دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
وہ رہا خود کو عمر بھر درپیش

اب میں کوئے عبث چلوں
کئی اک کام ہیں ادھر درپیش

اس کے دیدار کی امید کہاں
جبکہ ہے دید کو نظر درپیش

اب مری جاں بچ گئی یعنی
ایک قاتل کی ہے سپر درپیش

خلوتِ ناز اور آئینہ
خود نگر کو ہے ،خود نگر درپیش

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


بے یک نگاہ ہے شوق بھی ، اندازہ ہے ، سو ہے

بے یک نگاہ ہے شوق بھی ، اندازہ ہے ، سو ہے
با صد ہزار رنگ ، وہ بے غازہ ہے ، سو ہے

ہوں شامِ حال یک طرفہ کا امیدِ مست
دستک ؟ سو وہ نہیں ہے ، پہ دروازہ ہے ، سو ہے

آواز ہوں جو ہجرِ سماعت میں ہے سکوت
پر اس سکوت پر بھی اک آوازہ ہے ، سو ہے

اک حالتِ جمال پر جاں وارنے کو ہوں
صد حالتی مری ، مری طنازہ ہے ، سو ہے

شوقِ یقیں گزیدہ ہے اب تک یقیں مرا
یہ بھی کسی گمان کا خمیازہ ہے ، سو ہے

تھی یک نگاہِ شوق مری تازگی رُبا
اپنے گماں میں اب بھی کوئی تازہ ہے ،سو ہے
    

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن

مجھ کو بیگانہ کر گئے مرے دن
مجھ سے ہو کر گزر گئے مرے دن

اب نہ کوئی دن مرے گھر جائے گا
جانئے کس کے گھر گئے مرے دن

اب نہیں ہیں مرے کوئی دن رات
کہ مجھ ہی کو بسر گئے مرے دن

ساری راتیں گئیں مری بے حال
مرے دن ! بے اثر گئے مرے دن

خوشا اب انتظار ہے نہ امید
یار یاراں ! سدھر گئے اب دن

اب میں بس رہ گیا ہوں راتوں میں
مر گئے جون ! مر گئے مرے دن

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے

فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے

گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار ،دل میں رہے

تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
فضا کو صاف رکھیو ، غبار دل میں رہے

نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار ، دل میں رہے

لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے انکا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے

تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


چوراہہ

چار سُو مہرباں ہے چوراہہ
اجنبی شہر ، اجنبی بازار
میری تحویل میں نہیں سمتیں
کوئی رستہ کہیں کو جاتا ہے
چار سُو مہرباں ہے چوراہہ

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ہم جان و دل سے یار تھے ، ہم کون تھے ، ہم کون تھے

ہم جان و دل سے یار تھے ، ہم کون تھے ، ہم کون تھے
ہم میں کچھ دلدار تھے ، ہم کون تھے ، ہم کون تھے

آسان تھے سب کے لیئے جیسے سخن لب کے لئے
اپنے دشوار تھے ،ہم کون تھے ، ہم کون تھے

اپنے سے ہم کو بیر تھا، خود اپنا آپا غیر تھا
اپنے سے ہم بیزار تھے ، ہم کون تھے ، ہم کون تھے

ہم کون تھے ہم کون تھے ، اندر سے گلزار ہم
باہر سے ہم پر خار تھے ، ہم کون تھے ، ہم کون تھے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


جانے کیسے ہوں گے لوگ جو اس کو بھاتے ہوں گے

کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے ہوں گے لوگ جو اس کو بھاتے ہوں گے

اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے

یاروں کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


اس کی خوشبو سے گفتگو کی ہے

میں نے ہربار اس سے ملتے وقت
اس سے ملنے کی آرزو کی ہے
اور اس کے جانے کے بعد بھی میں نے
اس کی خوشبو سے گفتگو کی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


جان حیران ہو گئی ہوگی

جب تری جان ہو گئی ہو گی
جان حیران ہو گئی ہوگی

شب تھا میری نگاہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہوگی

اس کی خاطر ہوا میں خار بہت
وہ میری آن ہو گئی ہو گی

ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہوگی
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہوگی

اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہوگی

اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہوگی

کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہوگی

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے

کسی لباس کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے
تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے

ترے گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو
تیری سفید چنبیلی تجھے بلاتی ہے

تیرے بغیر مجھے چین کیسے پڑتا
مرے بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


اب ترے خط نہیں پڑھوں گا میں

تیری یادوں کے راستے کی طرف
اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں
دل تڑپتا ہے تیرے خط پڑھ کر
اب ترے خط نہیں پڑھوں گا میں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


یہ اداسی کہاں سے آتی ہے

روح پیاسی کہاں سے آتی ہے
یہ اداسی کہاں سے آتی ہے

ایک زندانِ بے دلی اور شام
یہ صبا سی کہاں سے آتی ہے

تو ہے پہلو میں پھر تری خوشبو
ہو کے باسی کہاں سے آتی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


گھر میں سامان کی ضرورت ہے

اب  نکل  آؤ   اپنے   اندر   سے
گھر میں سامان کی ضرورت ہے

ہم نے جانا تو  ہم  نے  یہ  جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے

خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں
یہ   اذیت    بڑی     اذیت    ہے

لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے
ہاں میرا غم ہی میری فرصت ہے

آج کا  دن  بھی  عیش  سے  گزرا
سر سا پا  تک  بدن  سلامت  ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا

یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا

بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا

دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا

کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا

تو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا

جو بھی ہو تم پہ معترض، اُس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا

جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خُدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں با خُدا نہیں کیا

نسبت علم ہے بہت حاکمِ وقت کو ہے عزیز
اُس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ہم رہے پر نہیں رہے آباد

ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد

کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاکِ نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد

ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد

شہرِ دل میں عجب محلے تھے
جن میں اکثر نہیں رہے آباد

جانے کیا واقعہ ہوا، کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


جی میں اچھا ہوں‌، دعائیں چاہییں

مر چکا ہے دل مگر زندہ ہوں میں
زہر جیسی کچھ دوائیں چاہییں

پوچھتی ہیں آپ، آپ اچھے تو ہیں
جی میں اچھا ہوں‌، دعائیں چاہییں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے

بے یک نگاہ بے شوق بھی، اندازہ ہے، سو ہے
با صد ہزار رنگ، وہ بے غازہ ہے، سو ہے

ہوں شامِ حال یک طرفہ کا امیدِ مست
دستک؟ سو وہ نہیں ہے، پہ دروازہ ہے، سو ہے

آواز ہوں جو ہجرِ سماعت میں ہے سکوت
پر اس سکوت پر بھی اک آوازہ ہے، سو ہے

اک حالتِ جمال پر جاں وارنے کو ہوں
صد حالتی میری، میری طنازہ ہے، سو ہے

شوقِ یقیں گزیدہ ہے اب تک یقیں میرا
یہ بھی کسی گمان کا خمیازہ ہے، سو ہے

تھی یک نگاہِ شوق میری تازگی رُبا
اپنے گماں میں اب بھی کوئی تازہ ہے، سو ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


دل کو اک بات کہہ سنانی ہے

دل کو اک بات کہہ سنانی ہے
ساری دنیا فقط کہانی ہے

تو میری جان داستان تھا کبھی
اب تیرا نام داستانی ہے

سہہ چکے زخمِ التفات تیرا
اب تیری یاد آزمانی ہے

اک طرف دل ہے، اک طرف دنیا
یہ کہانی بہت پرانی ہے

تھا سوال ان کی اداس آنکھوں کا
زندگی کیا نہیں گنوانی ہے

کیا بتاؤں میں اپنے پاسِ انا
میں نے ہنس ہنس کر ہار مانی ہے

ہوس انگیز ہے بدن میرا
ہائے میری ہوس کہ فانی ہے

زندگی کس طرح سے گزاروں میں
مجھ کو روزی نہیں کمانی ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


بیمار پڑوں تو پوچھیو مت

بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت

میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت

ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت

میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت

آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


رنگ بادِ صبا میں بھرتا ہے

رنگ بادِ صبا میں بھرتا ہے
میرا ایک زخم شام کرتا ہے

سب یہی پوچھتے ہیں مجھ سے کہ تو
کیوں سُدھارے نہیں سُدھرتا ہے

روز شام و سحر کی راہوں سے
ایک انبوہ کیوں گزرتا ہے؟

آئینے تیرے سامنے وہ شخص
اب بھلا کیوں نہیں سنورتا ہے

ایلیا جون کچھ نہیں کرتا
صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ایک سایہ میرا مسیحا تھا

ایک سایہ میرا مسیحا تھا
کون جانے، وہ کون تھا، کیا تھا

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حُجرے سے کم نکلتا تھا

تجھ کو بھُولا نہیں وہ شخص کے جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

بات تو دل شکن ہے پر، یارو
عقل سچی تھی، عشق جھُوٹا تھا

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


بے قراری سی بے قراری ہے

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

بِن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا میری نیند بھی تمھاری ہے

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتطاری ہے

ایک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تیری سواری ہے

خوش رہے تُو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امیدواری ہے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


خود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاں

خود سے ہم اک نفس ہلے بھی کہاں
اس کو ڈھونڈیں تو وہ ملے بھی کہاں

خیمہ خیمہ گزار لے یہ شب
صبح دم یہ قافلہ بھی کہاں

اب تامّل نہ کر دلِ خود کام
روٹھ لے پھر یہ سلسلے بھی کہاں

آؤ آپس میں کچھ گِلے کر لیں
ورنہ یوں ہے کہ پھر گِلے بھی کہاں

خوش ہو سینو، ان خراشوں پر
پھر تنفّس کے یہ صلے بھی کہاں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


میرے حق میں‌عذاب بن جاؤ

ہے ضرورت بہت توجّہ کی
یاد آؤ تو کم نہ یاد آؤ
چاہیے مجھ کو جان و دل کا سکوں
میرے حق میں‌عذاب بن جاؤ

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


نظم

دھُند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر
اُڑ رہے ہیں پرندے ٹیلوں پر
سب کا رُخ ہے نشیمنوں کی طرف
بستیوں کی طرف، بنوں کی طرف
اپنے گَلوں کو لے کے چرواہے
سرحدی بستیوں میں جا پہنچے
دلِ ناکام میں کہاں جاؤں
اجنبی شام، میں کہاں جاؤں

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں ‌تمھارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مرّوت ہو

تم ہو پہلو میں ‌پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو

کس طرح چھوڑ دوں‌ تمھیں ‌جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں‌ ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے

ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے

کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے

کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے

ہم سے روٹھا بھی گیا یم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے

جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے

جون! دل َ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے

Posted By – یاور ماجد http://yawarmaajed.wordpress.com


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.